*سید صلاح الدین احمد ایک تحریک ہیں۔وہ کسی برساتی نالے میں طغیانی کا نام نہیں ہیں۔بلکہ وہ لٹی عصمتوں اور کٹی جوانیوں کے امین اور محافظ ہیں۔وہ گزشتہ 30 برسوں سے بے شمار نشیب و فراز سے گزر چکے ہیں۔مگر اللہ کی نصرت اور مدد ان کے شامل حال رہی ہے ۔اج جبکہ مقبوضبہ جموں و کشمیر کی خصوصی حثیت پر برہمن سامراج نے حملہ کیا ہے' کیا یہ ساری صورتحال ان کے پیش نظر اور زیر غور نہیں ہوگی؟ کیا وہ سکون و آرام کی نید سو رہے ہوں گے؟ یقینا نہیں۔واقف کار اچھی طرح جانتے ہیں کہ نسبتا فراغت کے دنوں میں بھی دن تو دن راتیں بھی تحرہک کی کامیابی کے حصول کیلئے گزرتی ہیں اور ان کی زباں سے کبھی شکوہ نہیں سنا گیا ہے۔پتہ نہیں یہ بندہ کس مٹی کے بنے ہیں۔مظلوم قوم کی نظریں ان پر لگی ہوئی ہیں اور کیوں نہ ہوں کہ ان کی حزب المجاہدیں حالات کے تمام تر جبر اور اس روئے زمیں پر اپنی حمایت میں ایک بھی آواز بلند نہ ہونے کے باوجود غاصب اور سفاک بھارت کی اٹھ لاکھ سپاہ کے خلاف برسرپیکار ہے۔وہ سید صلاح الدین اپنے وطن عزیز کے مظلوموں کی بیقراری شدت سے محسوس کررہے ہوں گے اور اس بیقراری اور بے چینی کے خاتمے کیلئے دوا دارو کے انتظام میں محو اور مصروف عمل بھی ہوں گے۔ان کی ذات تنقید سے بالا نہیں ہے لیکن ہر کشمیری انہیں اپنا رہنما اور مسیحا سمجھتے ہیں کیونکہ وہ ہر کشمیری کو اپنا سمجھ کر گلے لگاتے ہیں اور اس وصف میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔بات کرتے ہیں تو دوٹوک اور پیغام پہنچانا مقصود ہو تو سیدھا 'صاف اور واضح الفاظ میں پہنچاتے ہیں ۔وہ ہم سب سے زیادہ متفکر ہوں گے البتہ کچھ سوشل میڈیا کے شیر اپنی عملی تربیت کا مظاہرہ کرکے سید صلاح الدین کی ذات کو نشانہ نبا کر کشمیری معاشرے میں اپنے لیے نیک نامی کمارہے ہیں۔ ان معدودے چند افراد کی خدمت میں عرض ہے کہ خاطر جمع رکھیں۔ذاتیات کی نچلی تریں سطح کا جواب دینا خوب اتا ہے لیکن بقول بابا اشفاق احمد ۔انسان جب بھی بولتا ہے تو غیبت ' الزام اور مخالفت میں ہی بولتا ہے ۔ان تینوں کے علاوہ باقی خاموشی بچی ہے ۔ہر انسان اپنی صحبت سے ہی پہچانا جاتا ہے۔شکریہ.از محمد شہباز*
0 Comments