Ticker

6/recent/ticker-posts

Health tips

یورک ایسڈ اور ہماری صحت

یورک ایسڈ ہمارے خون میں پایا جانیوالا ایک اہم کیمیائی مادہ ہے جو ایک خاص قلمی مرکب سے بنتا ہے یہ مختلف غذائوں میں پایا جاتا ہے۔یورک ایسڈ ہمارے جسم میں بہت سے اہم کام سر انجام دیتا ہے جن میں سے ایک اہم کام ہمارے جسم میں مختلف خلیوں کو توڑ پھوڑ سے بچانا اور خون کی نالیوں کا تعمیری کام ہے۔
ڈاکٹر افتخار ذیابیطس سنٹر کے ڈاکٹر افتخار  حسین نے مریضوں سے  ایک آگاہی پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ  ایک صحت مند آدمی کے خون میں یورک ایسڈ کی مقدار عورتوں میں   2.4  تا  6 ملی گرام اور مردوں میں    3.4   تا     7.0  ہے۔ ہمارے جسم میں گردے یورک ایسڈ کا اخراج اور اسکی مقررہ مقدار کو کنٹرول کرتے ہیں ، گردوں کی خرابی کے باعث ہمارے جسم میں یورک ایسڈ مقررہ مقدار سے بڑھ جاتا ہے، خون میں یورک ایسڈ کی زیادتی کے ایسے مریضوں کا تناسب تقریباً 90% تک ہوتا ہے ۔خون میں تیزابیت کا بڑھ جانا، شراب کا استعمال، ذیابیطیس،تھائی رائیڈغدود کی خرابی، گردوں کی پتھری، خون پتلا کرنے والی ادویات اور بلڈ پریشر کنٹرول کرنے والی ادویات کا استعمال خون میں یورک ایسڈ کی زیادتی کا باعث بنتا  ہے‘‘۔
خون میں یورک ایسڈ کی زیادتی کے نقصانات:
اگر خون میں یورک ایسڈ کی مقدار مقررہ حد سے بڑھ جائے اور اسکی تشخیص اور علاج بروقت نہ کرایا جائے تو یہ ہمارے جسم کے مختلف حصوں میں جمع ہونا شروع ہوجاتا ہے، جس سے مندرجہ ذیل بیماریاں ہو سکتی ہیں۔ جوڑوں میں شدید درد، پائوں کے انگوٹھوں میں شدید درد اور سوجن(گٹھیا)،گردوں کی تکالیف، گردوں میں پتھری کا بننا، بلڈ پریشر کا بڑھ جانا، دل کی بیماریاں اور ذیابطیس قابل ذکر ہیں۔  یورک ایسڈ کی زیادتی میں مبتلا مریض بڑا گوشت، پائے، چھوٹی سمندری مچھلی، خمیر، کولا ڈرنک، مغز، کلیجی اور آم  نہیں کھا سکتے جبکہ دنبہ کا گوشت، دالیں، خشخاش، مرغ کا سینہ، سویابین، پالک، چکن اعتدال میں، مٹر اور لوبیاوہ  کم مقدار میں کھا سکتے ہیں۔
اگر خون میں یورک ایسڈ کی زیادتی کی وجہ سے بیماری کی علامات نہیں ہیں پھر بھی آپ کو اپنا یورک ایسڈ کنٹرول کرنا ہوگا۔جدید تحیقیق یہ بات ثابت کرتی ہے کہ اگر خون میں  یورک ایسڈ کی زیادتی کی وجہ سے ہمارے جسم میں کسی بیماری کی علامات ظاہر نہیں تو بھی یورک ایسڈ کا کنٹرول کرنا ضروری ہے، تاکہ مستقبل میں جوڑوں کی تکالیف، گردوں کی خرابی، بلڈ پریشر، اور ذیابطیس سے بچا جا سکے
٭یورک ایسڈ کو کس طرح کنٹرول کیا جا سکتا ہے؟
ج:غذا  پر کنٹرول کے ساتھ ادویات کا باقاعدہ استعمال ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق کرنا چاہیے
٭کیا یورک ایسڈ کنٹرول ہونے کے بعد بھی دوا جاری رکھنا ہو گی؟
ج:دوا کے استعمال کے 10تا 15دن بعد آپکا یورک ایسڈ نارمل سطح تک آ جائے گا، لیکن مکمل صحت یابی کے لیے دوا کا باقاعدہ استعمال ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ضروری ہے
٭ یورک ایسڈ کتنے عرصے بعد چیک کرانا چاہیے؟
ج :دوا کے استعمال کے پندرہ دن بعد اپنا یورک ایسد دوبارہ چیک کرائیںاور اسکے بعد ہر ماہ باقاعدگی سے چیک کراتے رہیں
بچائو کی تدابیر
پانی کا زیادہ استعمال
، پھلوں، سبزیوں کا کثرت سے استعمال،
 دودھ اور دودھ سے بنی ہوئی اشیاء کا استعمال
،  گوشت اور دالوں کا کم سے کم استعمال
، دوائی کا باقاعدہ استعمال،
 ورزش  کرنا،

Post a Comment

0 Comments