شیئر کریں اس پیغام کو پھیلائیں
ستر کی دہائی ہے پنجاب کا گورنر غلام مصطفی کھر فرعون بنا مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے ایک رات دختر انگور نے کام دکھایا اور دختر آدم کی طلب بڑھ گئی۔ ہرکارے دوڑائے گئے مخبروں نے جامعہ پنجاب کے ایک ہوسٹل کی خبر دی کہ وہاںاندھیرا بھی ہے اور سیکیورٹی بھی برائے نام ہی اور ایک انتہائی حسین اور معصوم چہرے والی لڑکی جسے آپ گذشتہ دنوں دیکھ کر آہیں بھر چُکے ہیں وہیں مقیم ہے دو ڈاجیں بھیج کر اٹھوا لی جائے۔ بعد ازاں ہمیشہ کی طرح ڈرا کر اور کچھ نقدی دیکر زبان بند کروا دی جائے گی ورنہ لاش گرانا ایکسیڈنٹ کرانا کون سا بڑی بات ہے
لڑکی اٹھا لی گئی لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ ڈاج کے نکلتے وقت اسلامی جمعیت طلبہ کے ایک ذمہ دار نے یہ منظر دیکھ لیا۔ اس نے خاموشی سے سرکاری ڈاج کا پیچھا موٹرسائیکل پر کیا لڑکی کو گورنر ہاؤس کے بجائے ایم پی اے ہاسٹل لیجایا گیا۔ نوجوان واپس پہنچا تمام روداد سنائی گئی نوجوانوں نے جامعہ پنجاب کی بس خود اسٹارٹ کر کے ایم پی اے ہاسٹل پر دھاوا بول دیا لیکن دیر ہو چُکی تھی بنت حوا کی رداء تار تار ہو چُکی تھی۔
گورنر نے ایف ایس ایف کو بُلا لیا جسے تب “بھٹو فورس“ بھی کہا جاتا تھا نوجوانوں کی کوشش سے بحرحال اغوا شدہ آٹھ لڑکیاں بازیاب ہوئیں۔ اور گورنر بنا شلوار پہنے گورنر ہاؤس جان بچا کر پہنچ گیا۔ دو دن بعد اس لڑکی نے دریائے راوی میں چھلانگ لگا کر خودکُشی کر لی۔
اللہ کا نظام خاموش نہیں رہے گا۔
کیا آپ ان جیسوں سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ریپ جیسے کیسز پر سخت قانون سازی کریں گے.
بھول جائیں ایسے زانی، ریپیسٹ اور Homosexuality کے دلدادہ کبھی کوئی قانون سازی کریں گے، آپ ان کو ہر الیکشن میں ووٹ دیں. ووٹ ایک امانت ہے اس کی حیثیت بیعت کی ہے، ہر بار بیعت یزید کریں لیکن بروز قیامت اپنے اللہ کو کیا جواب دینا ہے یہ سوچ لیں؛ ہاں دعائیں کیا کریں کے یہ آگ آگ آپ کی بہن، بیٹیوں اور بچوں تک نہ پہنچے.

0 Comments